Prof. Syed Mujahid Sajjad

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

داغ دہلوی

کلیاتِ داغ

Published 14 October 2026

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں

منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیں

پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں

سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی

نشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں

کیا کہا؟، پھر تو کہو، “ہم نہیں سنتے تیری“

نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے

تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں

دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا

کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں

ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں

جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں

زیست سے تنگ ہو اے داغ تو کیوں جیتے ہو؟

جان پیاری بھی نہیں، جان سے جاتے بھی نہیں

داغ دہلوی

About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)

داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔

Read all poetry by Dagh Dehlvi

More Urdu poetry by Dagh Dehlvi