Prof. Syed Mujahid Sajjad

خواب میں بھی نہ کسی شب وہ ستم گر آیا

داغ دہلوی

کلیاتِ داغ

Published 14 October 2026

خواب میں بھی نہ کسی شب وہ ستم گر آیا

وعدہ ایسا کوئی جانے کہ مقرر آیا

مجھ سے مے کش کو کہاں صبر، کہاں کی توبہ

لے لیا دوڑ کے جب سامنے ساغر آیا

غیر کے روپ میں بھیجا ہے جلانے کو مرے

نامہ بر ان کا نیا بھیس بدل کر آیا

سخت جانی سے مری جان بچے گی کب تک

ایک جب کُند ہوا دوسرا خنجر آیا

داغ تھا درد تھا غم تھا کہ الم تھا کچھ تھا

لے لیا عشق میں جو ہم کو میسر آیا

عشق تاثیر ہی کرتا ہے کہ اس کافر نے

جب مرا حال سنا سنتے ہی جی بھر آیا

اس قدر شاد ہوں گویا کہ ملی ہفت اقلیم

آئینہ ہاتھ میں آیا کہ سکندر آیا

وصل میں ہائے وہ اترا کے مرا بول اٹھنا

اے فلک دیکھ تو یہ کون مرے گھر آیا

راہ میں وعدہ کریں جاؤں میں گھر پر تو کہیں

کون ہے، کس نے بلایا اسے، کیونکر آیا

داغ کے نام سے نفرت ہے، وہ جل جاتے ہیں

ذکر کم بخت کا آنے کو تو اکثر آیا

داغ دہلوی

About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)

داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔

Read all poetry by Dagh Dehlvi

More Urdu poetry by Dagh Dehlvi