کیوں چراتے ہو دیکھ کر آنکھیں
کلیاتِ داغ
Published 14 October 2026
کیوں چراتے ہو دیکھ کر آنکھیں
کر چکیں میرے دل میں گھر آنکھیں
چشمِ نرگس کو دیکھ لیں پھر ہم
تم دکھا دو جو اک نظر آنکھیں
ہے دوا انکی آتشِ رخسار
سینکتے ہیں اس آگ پر آنکھیں
کوئی آسان ہے تیرا دیدار
پہلے بنوائے تو بشر آنکھیں
جلوۂ یار کی نہ تاب ہوئی
ٹوٹ آئیں ہیں کس قدر آنکھیں
دل کو تو گھوَنٹ گھوَنٹ کر رکھا
مانتی ہی نہیں مگر آنکھیں
نہ گئی تاک جھانک کی عادت
لئے پھرتی ہیں در بہ در آنکھیں
ناوک و نیشتر تری پلکیں
سحرِ پرداز و فتنہ گر آنکھیں
یہ نرالا ہے شرم کا انداز
بات کرتے ہو ڈھانک کر آنکھیں
خاک پر کیوں ہو نقشِ پا تیرا
ہم بچھائیں زمین پر آنکھیں
نوحہ گر کون ہے مقدر میں
رونے والوں میں ہیں مگر آنکھیں
یہی رونا ہے گر شبِ غم کا
پھوٹ جائیں گی تا سحر آنکھیں
حالَ دل دیکھنا نہیں آتا
دل کی بنوائیں چارہ گر آنکھیں
داغ آنکھیں نکالتے ہیں وہ
انکو دیدو نکال کر آنکھیں
داغ دہلوی
About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)
داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔
More Urdu poetry by Dagh Dehlvi
- فلک زمین و ملائک جناب تھی دہلی (Nazm)
- آپ کا اعتبار کون کرے (Ghazal)
- غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا (Ghazal)
- تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا (Ghazal)