Prof. Syed Mujahid Sajjad

کعبے کی سمت جا کے مرا دھیان پھر گیا

داغ دہلوی

کلیاتِ داغ

Published 14 October 2026

کعبے کی سمت جا کے مرا دھیان پھر گیا

اس بت کو دیکھتے ہی بس ایمان پھر گیا

محشر میں داد خواہ جو اے دل نہ تو ہوا

تو جان لے یہ باتھ سے میرا پھر گیا

چھپ کر کہاں گئے تھے وہ شب کو کہ میرے گھر

سو بار آ کے ان کا نگہبان پھر گیا

رونق جو آ گئی پسینے سے موت کے

پانی ترے مریض پر اک آن پھر گیا

گریے نے ایک دم میں بنا دی وہ گھر کی شکل

میری نظر میں صاف بیابان پھر گیا

لائے تھے کوئے یار سے ہم داغ کو ابھی

لو اس کی موت آئی وہ نادان پھر گیا

داغ دہلوی

About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)

داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔

Read all poetry by Dagh Dehlvi

More Urdu poetry by Dagh Dehlvi