Prof. Syed Mujahid Sajjad

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا

داغ دہلوی

کلیاتِ داغ

Published 14 October 2026

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا

کہیں ہم نے پتہ پایا نہ ہر گز آج تک تیرا

صفات و ذات میں یکتا ہے تو اے واحد مطلق

نہ کوئی تیرا ثانی کوئی مشترک تیرا

جمال احمد و یوسف کو رونق تو نے بخشی ہے

ملاحت تجھ سے شیریں حسن شیریں میں نمک تیرا

ترے فیض و کرم سے نار و نور آپس میں یکدل ہیں

ثنا گر یک زبان ہر ایک ہے جن و ملک تیرا

نہ جلتا طور کیونکر کس طرح موسی نہ غش کھاتے

کہاں یہ تاب و طاقت جلوہ دیکھئے مر دیک تیرا

دعا یہ ہے کہ وقت مرگ اسکی مشکل آساں ہو

زباں پر داغ کے نام آئے یا رب یک بہ یک تیرا

داغ دہلوی

About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)

داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔

Read all poetry by Dagh Dehlvi

More Urdu poetry by Dagh Dehlvi