ناروا کہیے ناسزا کہیے
کلیاتِ داغ
Published 14 October 2026
ناروا کہیے ناسزا کہیے
کہیے کہیے مجھے برا کہیے
تجھ کو بد عہد و بے وفا کہیے
ایسے جھوٹے کو اور کیا کہیے
پھر نہ رکیے جو مدّعا کہیے
ایک کے بعد دوسرا کہیے
آپ اب میرا منہ نہ کھلوائیں
یہ نہ کہیے کہ مدّعا کہیے
وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں
مانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہیے
دل میں رکھنے کی بات ہے غمِ عشق
اس کو ہرگز نہ برملا کہیے
تجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نے
کہنے والوں کو اور کیا کہیے
وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی
حالِ دل سب سے جابجا کہیے
مجھ کو کہیے برا نہ غیر کے ساتھ
جو ہو کہنا جدا جدا کہیے
انتہا عشق کی خدا جانے
دمِ آخر کو ابتدا کہیے
میرے مطلب سے کیا غرض مطلب
آپ اپنا تو مدّعا کہیے
صبر فرقت میں آ ہی جاتا ہے
پر اسے دیر آشنا کہیے
آ گئی آپ کو مسیحائی
مرنے والوں کو مرحبا کہیے
آپ کا خیر خواہ میرے سوا
ہے کوئی اور دوسرا کہیے
ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پر
مجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہیے
ہوش جاتے رہے رقیبوں کے
داغ کو اور با وفا کہیے
داغ دہلوی
About Dagh Dehlvi (داغ دہلوی)
داغ دہلوی (1831 – 1905) اردو غزل کے ممتاز شاعر تھے۔ اپنی سادہ اور دلکش زبان اور شاگردوں کی تربیت کے لیے مشہور ہوئے۔
More Urdu poetry by Dagh Dehlvi
- فلک زمین و ملائک جناب تھی دہلی (Nazm)
- آپ کا اعتبار کون کرے (Ghazal)
- غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا (Ghazal)
- تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا (Ghazal)