درد آئے گا دبے پاؤں
نسخہ ہائے وفا
Published 12 October 2026
اور کچھ دیر میں جب پھر مرے تنہا دل کو
فکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے
درد آئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ
وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے
شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اٹھے گا
دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گا
حلقۂ زلف کہیں گوشۂ رخسار کہیں
ہجر کا دشت کہیں گلشن دیدار کہیں
لطف کی بات کہیں پیار کا اقرار کہیں
دل سے پھر ہوگی مری بات کہ اے دل اے دل
یہ جو محبوب بنا ہے تری تنہائی کا
یہ تو مہماں ہے گھڑی بھر کا چلا جائے گا
اس سے کب تیری مصیبت کا مداوا ہوگا
مشتعل ہو کے ابھی اٹھیں گے وحشی سائے
یہ چلا جائے گا رہ جائیں گے باقی سائے
رات بھر جن سے ترا خون خرابا ہوگا
جنگ ٹھہری ہے کوئی کھیل نہیں ہے اے دل
دشمن جاں ہیں سبھی سارے کے سارے قاتل
یہ کڑی رات بھی یہ سائے بھی تنہائی بھی
درد اور جنگ میں کچھ میل نہیں ہے اے دل
لاؤ سلگاؤ کوئی جوش غضب کا انگار
طیش کی آتش جرار کہاں ہے لاؤ
وہ دہکتا ہوا گلزار کہاں ہے لاؤ
جس میں گرمی بھی ہے حرکت بھی توانائی بھی
ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر
منتظر ہوگا اندھیرے کی فصیلوں کے ادھر
ان کو شعلوں کے رجز اپنا پتا تو دیں گے
خیر ہم تک وہ نہ پہنچے بھی صدا تو دیں گے
دور کتنی ہے ابھی صبح بتا تو دیں گے
About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)
فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz
- ربّا سچیا توں آکھیاسی (Poem)
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے (Ghazal)
- گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے (Ghazal)
- آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے (Ghazal)