فیض احمد فیض
Faiz Ahmed Faiz: Urdu poetry
فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
136 verses on this site
Poem
ربّا سچیا توں آکھیاسی
Ghazal
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
Ghazal
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
Ghazal
آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے
Ghazal
ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
Ghazal
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
Ghazal
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
Ghazal
تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے
Ghazal
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں
Ghazal
نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا
Ghazal
شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی
Ghazal
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے
Ghazal
راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
Ghazal
کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی
Ghazal
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
Ghazal
تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
Ghazal
نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیں
Ghazal
بات بس سے نکل چلی ہے
Ghazal
کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گے
Ghazal
ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے
Ghazal
تری امید ترا انتظار جب سے ہے
Ghazal
رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام
Ghazal
وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا
Ghazal
ہر حقیقت مجاز ہو جائے
Ghazal
وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں
Ghazal
ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گے
Ghazal
ہمت التجا نہیں باقی
Ghazal
سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں
Ghazal
یوں سجا چاند کہ جھلکا ترے انداز کا رنگ
Ghazal
چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا
Ghazal
اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں
Ghazal
شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کی
Ghazal
نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی
Ghazal
گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو
Ghazal
اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
Ghazal
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا سبھی راحتیں سبھی کلفتیں
Ghazal
قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم
Ghazal
یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا
Ghazal
شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارۂ شام
Ghazal
یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجات دل کا عالم
Ghazal
کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسن دو عالم سے
Ghazal
رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے
Ghazal
عشق منت کش قرار نہیں
Ghazal
اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
Ghazal
کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے
Ghazal
دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت (ردیف .. ے)
Ghazal
تیری صورت جو دل نشیں کی ہے
Ghazal
پھر حریف بہار ہو بیٹھے
Ghazal
نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی نہ کسی کو فکر رفو کی ہے
Ghazal
گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا
Ghazal
ہم سادہ ہی ایسے تھے کی یوں ہی پذیرائی
Ghazal
تجھے پکارا ہے بے ارادہ
Ghazal
ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن نہ تھی تری انجمن سے پہلے
Ghazal
حسرت دید میں گزراں ہیں زمانے کب سے
Ghazal
ہر سمت پریشاں تری آمد کے قرینے
Ghazal
جمے گی کیسے بساط یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں
Ghazal
ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی
Ghazal
حسن مرہون جوش بادۂ ناز
Ghazal
کچھ محتسبوں کی خلوت میں کچھ واعظ کے گھر جاتی ہے
Ghazal
ستم سکھلائے گا رسم وفا ایسے نہیں ہوتا
Ghazal
صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی (ردیف .. ن)
Ghazal
گرانئ شب ہجراں دو چند کیا کرتے
Ghazal
چشم میگوں ذرا ادھر کر دے
Ghazal
کچھ پہلے ان آنکھوں آگے کیا کیا نہ نظارا گزرے تھا
Ghazal
یہ موسم گل گرچہ طرب خیز بہت ہے
Ghazal
حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے
Ghazal
پھر آئینۂ عالم شاید کہ نکھر جائے
Ghazal
وہیں ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں
Ghazal
یاد غزال چشماں ذکر سمن عذاراں
Ghazal
یاد کا پھر کوئی دروازہ کھلا آخر شب
Ghazal
پھر لوٹا ہے خورشید جہاں تاب سفر سے
Ghazal
شرح فراق مدح لب مشکبو کریں (ردیف .. ')
Ghazal
کسی گماں پہ توقع زیادہ رکھتے ہیں
Ghazal
وہ عہد غم کی کاہش ہائے بے حاصل کو کیا سمجھے
Ghazal
غم بہ دل شکر بہ لب مست و غزل خواں چلیے
Ghazal
کس حرف پہ تو نے گوشۂ لب اے جان جہاں غماز کیا
Ghazal
یوں بہار آئی ہے اس بار کہ جیسے قاصد (ردیف .. ے)
Ghazal
سہل یوں راہ زندگی کی ہے
Ghazal
کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچے
Ghazal
عجز اہل ستم کی بات کرو
Ghazal
کس شہر نہ شہرہ ہوا نادانئ دل کا
Ghazal
شاخ پر خون گل رواں ہے وہی
Ghazal
فکر دل دارئ گلزار کروں یا نہ کروں
Ghazal
کچھ دن سے انتظار سوال دگر میں ہے
Ghazal
یک بیک شورش فغاں کی طرح
Ghazal
جیسے ہم بزم ہیں پھر یار طرح دار سے ہم
Ghazal
قند دہن کچھ اس سے زیادہ
Ghazal
شرح بے دردئ حالات نہ ہونے پائی
Ghazal
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
Nazm
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
Nazm
رقیب سے!
Nazm
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
Nazm
و یبقٰی وجہ ربک(ہم دیکھیں گے)
Nazm
صبح آزادی (اگست 47)
Nazm
تنہائی
Nazm
بول
Nazm
نثار میں تیری گلیوں کے
Nazm
آج بازار میں پا بہ جولاں چلو
Nazm
یاد
Nazm
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
Nazm
یہ فصل امیدوں کی ہم دم
Nazm
چند روز اور مری جان
Nazm
اس وقت تو یوں لگتا ہے
Nazm
کتے
Nazm
دو عشق
Nazm
مرے ہمدم مرے دوست!
Nazm
انتساب
Nazm
دل من مسافر من
Nazm
ڈھاکہ سے واپسی پر
Nazm
دعا
Nazm
پاس رہو
Nazm
ہارٹ اٹیک
Nazm
ہم تو مجبور وفا ہیں
Nazm
درد آئے گا دبے پاؤں
Nazm
بہار آئی
Nazm
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
Nazm
موضوع سخن
Nazm
ترانہ
Nazm
جب تیری سمندر آنکھوں میں
Nazm
تم اپنی کرنی کر گزرو
Nazm
رنگ ہے دل کا مرے
Nazm
آخری خط
Nazm
ملاقات
Nazm
خدا وہ وقت نہ لائے
Nazm
زنداں کی ایک شام
Nazm
تمہارے حسن کے نام
Nazm
ہجر کی راکھ اور وصال کے پھول
Nazm
فلسطینی بچے کے لیے لوری
Nazm
جو میرا تمہارا رشتہ ہے
Nazm
آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال
Nazm
تم ہی کہو کیا کرنا ہے
Nazm
سوچ
Nazm
مرے درد کو جو زباں ملے
Nazm
ایک رہگزر پر
Nazm
کہاں جاؤ گے
Nazm
آج کی رات