کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے
نسخہ ہائے وفا
Published 12 October 2026
کبھی کبھی یاد میں ابھرتے ہیں نقش ماضی مٹے مٹے سے
وہ آزمائش دل و نظر کی وہ قربتیں سی وہ فاصلے سے
کبھی کبھی آرزو کے صحرا میں آ کے رکتے ہیں قافلے سے
وہ ساری باتیں لگاؤ کی سی وہ سارے عنواں وصال کے سے
نگاہ و دل کو قرار کیسا نشاط و غم میں کمی کہاں کی
وہ جب ملے ہیں تو ان سے ہر بار کی ہے الفت نئے سرے سے
بہت گراں ہے یہ عیش تنہا کہیں سبک تر کہیں گوارا
وہ درد پنہاں کہ ساری دنیا رفیق تھی جس کے واسطے سے
تمہیں کہو رند و محتسب میں ہے آج شب کون فرق ایسا
یہ آ کے بیٹھے ہیں میکدے میں وہ اٹھ کے آئے ہیں میکدے سے
About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)
فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz
- ربّا سچیا توں آکھیاسی (Poem)
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے (Ghazal)
- گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے (Ghazal)
- آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے (Ghazal)