کہاں جاؤ گے
نسخہ ہائے وفا
Published 12 October 2026
اور کچھ دیر میں لٹ جائے گا ہر بام پہ چاند
عکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گے
عرش کے دیدۂ نمناک سے باری باری
سب ستارے سر خاشاک برس جائیں گے
آس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میں
اپنی تنہائی سمیٹے گا، بچھائے گا کوئی
بے وفائی کی گھڑی، ترک مدارات کا وقت
اس گھڑی اپنے سوا یاد نہ آئے گا کوئی
ترک دنیا کا سماں ختم ملاقات کا وقت
اس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤ گے
اس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں رہنے دو
کوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دو
اور ملے گا بھی اس طور کہ پچھتاؤگے
اس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤگے
اور کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ پھر نشتر صبح
زخم کی طرح ہر اک آنکھ کو بیدار کرے
اور ہر کشتۂ واماندگئ آخرِ شب
بھول کر ساعت درماندگئ آخر شب
جان پہچان ملاقات پہ اصرار کرے
About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)
فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz
- ربّا سچیا توں آکھیاسی (Poem)
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے (Ghazal)
- گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے (Ghazal)
- آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے (Ghazal)