رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے
نسخہ ہائے وفا
Published 12 October 2026
رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے
شب سیہ سے طلب حسن یار کرتے رہے
خیال یار کبھی ذکر یار کرتے رہے
اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے
نہیں شکایت ہجراں کہ اس وسیلے سے
ہم ان سے رشتۂ دل استوار کرتے رہے
وہ دن کہ کوئی بھی جب وجہ انتظار نہ تھی
ہم ان میں تیرا سوا انتظار کرتے رہے
ہم اپنے راز پہ نازاں تھے شرمسار نہ تھے
ہر ایک سے سخن راز دار کرتے رہے
ضیائے بزم جہاں بار بار ماند ہوئی
حدیث شعلہ رخاں بار بار کرتے رہے
انہیں کے فیض سے بازار عقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)
فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz
- ربّا سچیا توں آکھیاسی (Poem)
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے (Ghazal)
- گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے (Ghazal)
- آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے (Ghazal)