ہم سادہ ہی ایسے تھے کی یوں ہی پذیرائی
نسخہ ہائے وفا
Published 12 October 2026
ہم سادہ ہی ایسے تھے کی یوں ہی پذیرائی
جس بار خزاں آئی سمجھے کہ بہار آئی
آشوب نظر سے کی ہم نے چمن آرائی
جو شے بھی نظر آئی گل رنگ نظر آئی
امید تلطف میں رنجیدہ رہے دونوں
تو اور تری محفل میں اور مری تنہائی
یک جان نہ ہو سکیے انجان نہ بن سکیے
یوں ٹوٹ گئی دل میں شمشیر شناسائی
اس تن کی طرف دیکھو جو قتل گہ دل ہے
کیا رکھا ہے مقتل میں اے چشم تماشائی
About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)
فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz
- ربّا سچیا توں آکھیاسی (Poem)
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے (Ghazal)
- گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے (Ghazal)
- آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے (Ghazal)