Prof. Syed Mujahid Sajjad

موضوع سخن

Faiz Ahmed Faiz

نسخہ ہائے وفا

Published 12 October 2026

گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام

دھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے رات

اور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گی

اور ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہات

ان کا آنچل ہے کہ رخسار کہ پیراہن ہے

کچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں

جانے اس زلف کی موہوم گھنی چھاؤں میں

ٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیں

آج پھر حسن دل آرا کی وہی دھج ہوگی

وہی خوابیدہ سی آنکھیں وہی کاجل کی لکیر

رنگ رخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا غبار

صندلی ہاتھ پہ دھندھلی سی حنا کی تحریر

اپنے افکار کی اشعار کی دنیا ہے یہی

جان مضموں ہے یہی شاہد معنی ہے یہی

آج تک سرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلے

آدم و حوا کی اولاد پہ کیا گزری ہے؟

موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میں

ہم پہ کیا گزرے گی اجداد پہ کیا گزری ہے؟

ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوق

کیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہے

یہ حسیں کھیت پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا!

کس لیے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے

یہ ہر اک سمت پر اسرار کڑی دیواریں

جل بجھے جن میں ہزاروں کی جوانی کے چراغ

یہ ہر اک گام پہ ان خوابوں کی مقتل گاہیں

جن کے پرتو سے چراغاں ہیں ہزاروں کے دماغ

یہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گے

لیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹ

ہائے اس جسم کے کمبخت دل آویز خطوط

آپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوں ہوں گے

اپنا موضوع سخن ان کے سوا اور نہیں

طبع شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں

About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)

فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔

Read all poetry by Faiz Ahmed Faiz

More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz