Prof. Syed Mujahid Sajjad

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

Faiz Ahmed Faiz

نقشِ فریادی

Published 12 October 2026

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات

تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے

تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے

یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے

جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے

اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

About Faiz Ahmed Faiz (فیض احمد فیض)

فیض احمد فیض (1911–1984) برصغیر کے عظیم اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دستِ طہِ سنگ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کی غزل ”مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ“ اردو ادب کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔

Read all poetry by Faiz Ahmed Faiz

More Urdu poetry by Faiz Ahmed Faiz