آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی
رہ جاؤں سن نہ کیونکر یہ تو بری سنائی
مجنوں و کوہ کن کے سنتے تھے یار قصے
جب تک کہانی ہم نے اپنی نہ تھی سنائی
شکوہ کیا جو ہم نے گالی کا آج اس سے
شکوے کے ساتھ اس نے اک اور بھی سنائی
کچھ کہہ رہا ہے ناصح کیا جانے کیا کہے گا
دیتا نہیں مجھے تو اے بے خودی سنائی
کہنے نہ پائے اس سے ساری حقیقت اک دن
آدھی کبھی سنائی آدھی کبھی سنائی
صورت دکھائے اپنی دیکھیں وہ کس طرح سے
آواز بھی نہ ہم کو جس نے کبھی سنائی
قیمت میں جنس دل کی مانگا جو ذوقؔ بوسہ
کیا کیا نہ اس نے ہم کو کھوٹی کھری سنائی
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)