عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو
یہ عمر رفتہ کی اپنی صدائے پا سمجھو
بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو
زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
نہ سمجھو دشت شفاخانۂ جنوں ہے یہ
جو خاک سی بھی پڑے پھانکنی دوا سمجھو
سمجھ تو کورسوادوں کو ہو جو علم نہ ہو
اگر سمجھ بھی نہ ہو کور بے عصا سمجھو
پڑے کتاب کے قصوں میں کیا کرو دل صاف
صفا ہو دل تو بہ از روضۃ الصفا سمجھو
ہنسے جو وہ مرے رونے پہ تو صف مژگاں
نہ سمجھو تم اسے دیوار قہقہا سمجھو
نفس کی آمد و شد ہے نماز اہل حیات
جو یہ قضا ہو تو اے غافلو قضا سمجھو
تمہاری راہ میں ملتے ہیں خاک میں لاکھوں
اس آرزو میں کہ تم اپنا خاک پا سمجھو
دعائیں دیتے ہیں ہم دل سے تیغ قاتل کو
لب جراحت دل کو لب دعا سمجھو
بہا دیا مرا خوں اس نے اپنے کوچے میں
اسی کو یارو دیت سمجھو خوں بہا سمجھو
سمجھ ہے اور تمہاری کہوں میں تم سے کیا
تم اپنے دل میں خدا جانے سن کے کیا سمجھو
تمہیں ہے نام سے کیا کام مثل آئینہ
جو روبرو ہو اسے صورت آشنا سمجھو
زہے نصیب کہ ہنگام مشق تیر ستم
ہمارے ڈھیر کو تم تو وہ خاک کا سمجھو
نہیں ہے کم زر خالص سے زردی رخسار
تم اپنے عشق کو اے ذوقؔ کیمیا سمجھو
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)