Prof. Syed Mujahid Sajjad

عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو

یہ عمر رفتہ کی اپنی صدائے پا سمجھو

بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو

زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

نہ سمجھو دشت شفاخانۂ جنوں ہے یہ

جو خاک سی بھی پڑے پھانکنی دوا سمجھو

سمجھ تو کورسوادوں کو ہو جو علم نہ ہو

اگر سمجھ بھی نہ ہو کور بے عصا سمجھو

پڑے کتاب کے قصوں میں کیا کرو دل صاف

صفا ہو دل تو بہ از روضۃ الصفا سمجھو

ہنسے جو وہ مرے رونے پہ تو صف مژگاں

نہ سمجھو تم اسے دیوار قہقہا سمجھو

نفس کی آمد و شد ہے نماز اہل حیات

جو یہ قضا ہو تو اے غافلو قضا سمجھو

تمہاری راہ میں ملتے ہیں خاک میں لاکھوں

اس آرزو میں کہ تم اپنا خاک پا سمجھو

دعائیں دیتے ہیں ہم دل سے تیغ قاتل کو

لب جراحت دل کو لب دعا سمجھو

بہا دیا مرا خوں اس نے اپنے کوچے میں

اسی کو یارو دیت سمجھو خوں بہا سمجھو

سمجھ ہے اور تمہاری کہوں میں تم سے کیا

تم اپنے دل میں خدا جانے سن کے کیا سمجھو

تمہیں ہے نام سے کیا کام مثل آئینہ

جو روبرو ہو اسے صورت آشنا سمجھو

زہے نصیب کہ ہنگام مشق تیر ستم

ہمارے ڈھیر کو تم تو وہ خاک کا سمجھو

نہیں ہے کم زر خالص سے زردی رخسار

تم اپنے عشق کو اے ذوقؔ کیمیا سمجھو

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq