Prof. Syed Mujahid Sajjad

بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر

ایماں یہ ہے کہ بھیج دے آنکھیں نکال کر

دل سینے میں کہاں ہے نہ تو دیکھ بھال کر

اے آہ کہہ دے تیر کا نامہ نکال کر

اترے گا ایک جام بھی پورا نہ چاک سے

خاک دل شکستہ نہ صرف کلال کر

لے کر بتوں نے جان جب ایماں پہ ڈالا ہاتھ

دل کیا کنارے ہو گیا سب کو سنبھال کر

تصویر ان کی حضرت دل کھینچ لیجے گر

رکھ دیں گے ہم بھی پاؤں پہ آنکھیں نکال کر

قاتل ہے کس مزے سے نمک پاش زخم دل

بسمل ذرا تڑپ کے نمک تو حلال کر

دل کو رفیق عشق میں اپنا سمجھ نہ ذوقؔ

ٹل جائے گا یہ اپنی بلا تجھ پہ ٹال کر

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq