برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی
کچھ جو خاکستر بچا آندھی اڑا کر لے گئی
اس کے قدموں تک نہ بیتابی بڑھا کر لے گئی
ہائے دو پلٹے دئیے اور پھر ہٹا کر لے گئی
ناتوانی ہم کو ہاتھوں ہاتھ اٹھا کر لے گئی
چیونٹی سے چیونٹی دانہ چھڑا کر لے گئی
صبح رخ سے کون شام زلف میں جاتا تھا آہ
اے دل شامت زدہ شامت لگا کر لے گئی
خون سے فرہاد کے رنگیں ہوا دامان کوہ
کیوں نہ موج شیر یہ دھبا چھڑا کر لے گئی
تم نے تو چھوڑا ہی تھا اے ہم رہان قافلہ
لیکن آواز جرس ہم کو جگا کر لے گئی
نوک مژگاں جب ہوئی سینہ فگاروں سے دو چار
پارہ ہائے دل سے گلدستہ بنا کر لے گئی
دیکھی کچھ دل کی کشش لیلیٰ کہ ناقے کو ترے
سوئے مجنوں آخرش رستہ بھلا کر لے گئی
واہ اے سوز دروں کوچے میں اس کے برق آہ
رات ہم کو ہر قدم مشعل دکھا کر لے گئی
وہ گئے گھر غیر کے اور یاں ہمیں دم بھر کے بعد
بدگمانی ان کے گھر سو گھر پھرا کر لے گئی
جو شہید ناز کوچے میں تمہارے تھا پڑا
کیا کہوں تقدیر اسے کیونکر اٹھا کر لے گئی
دشت وحشت میں بگولا تھا کہ دیوانہ ترا
روح مجنوں بہر استقبال آ کر لے گئی
آگ میں ہے کون گر پڑتا مگر پروانے کو
آتش سوز محبت تھی جلا کر لے گئی
اے پری پہلو سے میرے کیا کہوں تیری نگاہ
دل اڑا کر لے گئی یا پر لگا کر لے گئی
ذوقؔ مر جانے کا تو اپنے کوئی موقع نہ تھا
کوئے جاناں میں اجل ناحق لگا کر لے گئی
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)