Prof. Syed Mujahid Sajjad

بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی

وہیں معلوم کروں ہونٹ ہلائے تو سہی

سنگ پر سنگ ہر اک کوچہ میں کھائے تو سہی

پر بلا سے ترے دیوانے کھائے تو سہی

گو جنازے پہ نہیں قبر پہ آئے وہ مری

شکوہ کیا کیجے غنیمت ہے کہ آئے تو سہی

کیونکہ دیوار پہ چڑھ جاؤں کوئی کہتا ہے

پاؤں کاٹوں گا انگوٹھا وہ جمائے تو سہی

پارۂ مصحف دل تھے ترے کوچہ میں پڑے

آتے پاؤں کے تلے شکر کہ پائے تو سہی

صاف بے پردہ نہیں ہوتا وہ غرفہ میں نہ ہو

روزن در سے کبھی آنکھ لڑائے تو سہی

گہ بڑھاتا ہے گہے مہ کو گھٹاتا ہے فلک

پر شب ہجر کو ہم دیکھیں گھٹائے تو سہی

کروں اک نالے سے میں حشر میں برپا سو حشر

شور محشر مجھے سوتے سے جگائے تو سہی

گر پڑے تھے کئی اس کوچے میں دل کے ٹکڑے

آتے پاؤں کے تلے شکر کہ پائے تو سہی

تھے تمہیں نکلے جو اس دام بلا سے اے ذوقؔ

ورنہ تھے پیچ میں اس زلف کے آئے تو سہی

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq