Prof. Syed Mujahid Sajjad

دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے

ہر لالہ یاں ہے نافۂ مشک ختن مجھے

ہمدم وبال دوش نہ کر پیرہن مجھے

کانٹا سا ہے کھٹکتا مرا تن بدن مجھے

پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے

زنجیر پا ہے موج نسیم چمن مجھے

تسبیح دور بزم میں دیکھو امام کو

بخشی ہے حق نے زیب سر انجمن مجھے

اے میرے یاسمن ترے دندان آبدار

گلشن میں ہیں رلاتے گل یاسمن مجھے

محراب کعبہ جب سے ہے تیرا خم کماں

صید حرم سمجھتے ہیں ناوک فگن مجھے

ہے تن میں ریشہ ہائے نئے خشک استخواں

کیوں کھینچتا ہے کانٹوں میں اے ضعف تن مجھے

اے لب مسی کو پھینک کہ نیلم ہے کم بہا

یاقوت دے یا دے کوئی لعل یمن مجھے

ہوں شمع یا کہ شعلہ خبر کچھ نہیں مگر

فانوس ہو رہا ہے مرا پیرہن مجھے

اک سرزمین لالہ بہار و خزاں میں ہوں

یکساں ہے داغ تازہ و داغ کہن مجھے

خسرو سے تیشہ بولا جو چاٹوں نہ تیرا خوں

شیریں نہ ہووے خون سر کوہ کن مجھے

رخ پر تمہارے دام جو ڈالا ہے سبزے نے

آتا نظر ہے دیدۂ عنقا دہن مجھے

یہ دل وہ ہے کہ کر دے زمیں آسماں کو خاک

اک دم کو برق دے جو پنہا پیرہن مجھے

کوچے میں تیرے کون تھا لیتا بھلا خبر

شب چاندنی نے آ کے پھنایا کفن مجھے

دکھلاتا آسماں سے ہے روئے زمیں کی سیر

اے رشک ماہ تیری جبیں کا شکن مجھے

رکھتا ہے چشم لطف پہ کس کس ادا کے ساتھ

دیتا ہے جام ساقیٔ پیماں شکن مجھے

ہے جذب دل درست تو چاہ فراق سے

کھینچے گی تیری زلف شکن در شکن مجھے

دکھلاتا اک ادا میں ہے سو سو طرح بناؤ

اس سادہ پن کے ساتھ ترا بانکپن مجھے

جیسے کنویں میں ہو کوئی تارا چمک رہا

دل سوجھتا ہے یوں تہ چاہ ذقن مجھے

آ کر اسے بھی دو کبھی آنکھیں ذرا دکھا

آنکھیں دکھا رہا ہے غرال ختن مجھے

آ اے مرے چمن کہ ہوا میں تری ہوا

صحرائے دل ہوا ہے چمن در چمن مجھے

یا رب یہ دل ہے یا کہ ہے آئینۂ نظر

دکھلا رہا ہے سیر و سفر در وطن مجھے

آیا ہوں نور لے کے میں بزم سخن میں ذوقؔ

آنکھوں پہ سب بٹھائیں گے اہل سخن مجھے

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq