گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں
بشر کے ہیں جو مبصر بشر کو دیکھتے ہیں
نہ خوب و زشت نہ عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں
یہ چیز کیا ہے بشر ہم بشر کو دیکھتے ہیں
وہ دیکھیں بزم میں پہلے کدھر کو دیکھتے ہیں
محبت آج ترے ہم اثر کو دیکھتے ہیں
وہ اپنی برش تیغ نظر کو دیکھتے ہیں
ہم ان کو دیکھتے ہیں اور جگر کو دیکھتے ہیں
جب اپنے گریہ و سوز جگر کو دیکھتے ہیں
سلگتی آگ میں ہم خشک و تر کو دیکھتے ہیں
رفیق جب مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں
تو چارہ گر انہیں وہ چارہ گر کو دیکھتے ہیں
نہ طمطراق کو نے کر و فر کو دیکھتے ہیں
ہم آدمی کے صفات و سیر کو دیکھتے ہیں
جو رات خواب میں اس فتنہ گر کو دیکھتے ہیں
نہ پوچھ ہم جو قیامت سحر کو دیکھتے ہیں
وہ روز ہم کو گزرتا ہے جیسے عید کا دن
کبھی جو شکل تمہاری سحر کو دیکھتے ہیں
جہاں کے آئنوں سے دل کا آئنہ ہے جدا
اس آئنے میں ہم آئینہ گر کو دیکھتے ہیں
بنا کے آئینہ دیکھے ہے پہلے آئینہ گر
ہنر ور اپنے ہی عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)