Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو

اک نظر دل سے ادھر دیکھ لو گر دیکھتے ہو

ہے دم باز پسیں دیکھ لو گر دیکھتے ہو

آئینہ منہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو

ناتوانی کا مری مجھ سے نہ پوچھو احوال

ہو مجھے دیکھتے یا اپنی کمر دیکھتے ہو

پر پروانہ پڑے ہیں شجر شمع کے گرد

برگ ریزی محبت کا ثمر دیکھتے ہو

بید مجنوں کو ہو جب دیکھتے اے اہل نظر

کسی مجنوں کو بھی آشفتہ بسر دیکھتے ہو

شوق دیدار مری نعش پہ آ کر بولا

کس کی ہو دیکھتے راہ اور کدھر دیکھتے ہو

لذت ناوک غم ذوقؔ سے ہو پوچھتے کیا

لب پڑے چاٹتے ہیں زخم جگر دیکھتے ہو

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq