ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو
اک نظر دل سے ادھر دیکھ لو گر دیکھتے ہو
ہے دم باز پسیں دیکھ لو گر دیکھتے ہو
آئینہ منہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو
ناتوانی کا مری مجھ سے نہ پوچھو احوال
ہو مجھے دیکھتے یا اپنی کمر دیکھتے ہو
پر پروانہ پڑے ہیں شجر شمع کے گرد
برگ ریزی محبت کا ثمر دیکھتے ہو
بید مجنوں کو ہو جب دیکھتے اے اہل نظر
کسی مجنوں کو بھی آشفتہ بسر دیکھتے ہو
شوق دیدار مری نعش پہ آ کر بولا
کس کی ہو دیکھتے راہ اور کدھر دیکھتے ہو
لذت ناوک غم ذوقؔ سے ہو پوچھتے کیا
لب پڑے چاٹتے ہیں زخم جگر دیکھتے ہو
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)