Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے

لگایا جی کو ناحق غم ابھی سے

دلا ربط اس سے رکھنا کم ابھی سے

جتا دیتے ہیں تجھ کو ہم ابھی سے

ترے بیمار غم کے ہیں جو غم خوار

برستا ان پہ ہے ماتم ابھی سے

غضب آیا ہلیں گر اس کی مژگاں

صف عشاق ہے برہم ابھی سے

اگرچہ دیر ہے جانے میں تیرے

نہیں پر اپنے دم میں دم ابھی سے

بھگو رہوے گا گریہ جیب و دامن

رہے ہے آستیں پر نم ابھی سے

تمہارا مجھ کو پاس آبرو تھا

وگرنہ اشک جاتے تھم ابھی سے

لگے سیسہ پلانے مجھ کو آنسو

کہ ہو بنیاد غم محکم ابھی سے

کہا جانے کو کس نے مینہ کھلے پر

کہ چھایا دل پہ ابر غم ابھی سے

نکلتے ہی دم اٹھواتے ہیں مجھ کو

ہوئے بے زار یوں ہمدم ابھی سے

ابھی دل پر جراحت سو نہ دو سو

دھرا ہے دوستو مرہم ابھی سے

کیا ہے وعدۂ دیدار کس نے

کہ ہے مشتاق اک عالم ابھی سے

مرا جانا مجھے غیروں نے اے ذوقؔ

کہ پھرتے ہیں خوش و خرم ابھی سے

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq