ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے
لگایا جی کو ناحق غم ابھی سے
دلا ربط اس سے رکھنا کم ابھی سے
جتا دیتے ہیں تجھ کو ہم ابھی سے
ترے بیمار غم کے ہیں جو غم خوار
برستا ان پہ ہے ماتم ابھی سے
غضب آیا ہلیں گر اس کی مژگاں
صف عشاق ہے برہم ابھی سے
اگرچہ دیر ہے جانے میں تیرے
نہیں پر اپنے دم میں دم ابھی سے
بھگو رہوے گا گریہ جیب و دامن
رہے ہے آستیں پر نم ابھی سے
تمہارا مجھ کو پاس آبرو تھا
وگرنہ اشک جاتے تھم ابھی سے
لگے سیسہ پلانے مجھ کو آنسو
کہ ہو بنیاد غم محکم ابھی سے
کہا جانے کو کس نے مینہ کھلے پر
کہ چھایا دل پہ ابر غم ابھی سے
نکلتے ہی دم اٹھواتے ہیں مجھ کو
ہوئے بے زار یوں ہمدم ابھی سے
ابھی دل پر جراحت سو نہ دو سو
دھرا ہے دوستو مرہم ابھی سے
کیا ہے وعدۂ دیدار کس نے
کہ ہے مشتاق اک عالم ابھی سے
مرا جانا مجھے غیروں نے اے ذوقؔ
کہ پھرتے ہیں خوش و خرم ابھی سے
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)