جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر
کیا ہی پچھتاتا تھا میں قاتل کا داماں چھوڑ کر
میں وہ مجنوں ہوں جو نکلوں کنج زنداں چھوڑ کر
سیب جنت تک نہ کھاؤں سنگ طفلاں چھوڑ کر
پیوے میرا ہی لہو مانی جو لب اس شوخ کے
کھینچے تو شنگرف سے خون شہیداں چھوڑ کر
میں ہوں وہ گمنام جب دفتر میں نام آیا مرا
رہ گیا بس منشی قدرت جگہ واں چھوڑ کر
سایۂ سرو چمن تجھ بن ڈراتا ہے مجھے
سانپ سا پانی میں اے سرو خراماں چھوڑ کر
ہو گیا طفلی ہی سے دل میں ترازو تیر عشق
بھاگے ہیں مکتب سے ہم اوراق میزاں چھوڑ کر
اہل جوہر کو وطن میں رہنے دیتا گر فلک
لعل کیوں اس رنگ سے آتا بدخشاں چھوڑ کر
شوق ہے اس کو بھی طرز نالۂ عشاق سے
دم بدم چھیڑے ہے منہ سے دود قلیاں چھوڑ کر
دل تو لگتے ہی لگے گا حوریان عدن سے
باغ ہستی سے چلا ہوں ہائے پریاں چھوڑ کر
گھر سے بھی واقف نہیں اس کے کہ جس کے واسطے
بیٹھے ہیں گھر بار ہم سب خانہ ویراں چھوڑ کر
وصل میں گر ہووے مجھ کو رویت ماہ رجب
روئے جاناں ہی کو دیکھوں میں تو قرآں چھوڑ کر
ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن
کون جائے ذوقؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)