جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا
تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا
رہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا
دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافر
تو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا
جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضا
حروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا
ہے اور علم و ادب مکتب محبت میں
کہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا
ہجوم اشک کے ہم راہ کیوں نہ ہو نالہ
کہ فوج سے نہیں ہوتا کبھی نقیب جدا
فراق خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک
الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا
کیا حبیب کو مجھ سے جدا فلک نے مگر
نہ کر سکا مرے دل سے غم حبیب جدا
کریں جدائی کا کس کس کی رنج ہم اے ذوقؔ
کہ ہونے والے ہیں ہم سب سے عن قریب جدا
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)