Prof. Syed Mujahid Sajjad

کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے

نہ دے شراب ڈبو کر کوئی کباب تو دے

بجھے گا سوز دل اے گریہ پل میں آب تو دے

دگر ہے آگ میں دنیا یوں ہی عذاب تو دے

گزرنے گر یہ مرے سر سے اتنا آب تو دے

کہ سر پہ چرخ بھی دکھلائی جوں حباب تو دے

ہزاروں تشنہ جگر کس سے ہوئیں گے سیراب

خدا کے واسطے تیغ ستم کو آب تو دے

تمہارے مطلع ابرو پہ یہ کہے ہے خال

کہ ایسا نقطہ کوئی وقت انتخاب تو دے

در قبول ہے درباں نہ بند کر در یار

دعائے خیر مری ہونے مستجاب تو دے

کھلے ہے ناز سے گلشن میں غنچۂ نرگس

ذرا دکھا تو اسے چشم نیم خواب تو دے

بلا سے آپ نہ آئیں پہ آدمی ان کا

تسلی آ کے مجھے وقت اضطراب تو دے

ہوا بگولے میں ہے کشتگان زلف کی خاک

کہ بعد مرگ بھی معلوم پیچ و تاب تو دے

بلا سے کم نہ ہو گریہ سے ��یرا سوز جگر

بجھا پر ان کی ذرا آتش عتاب تو دے

شہید کیجیو قاتل ابھی نہ کر جلدی

ٹھہرنے مجھ کو تہ تیغ اضطراب تو دے

شکار بستۂ فتراک کو ترے مقدور

ہوا نہ یہ بھی کہ بوسہ سر رکاب تو دے

دل برشتہ کو میرے نہ چھوڑو مے خوارو

جو لذت اس میں ہے ایسا مزا کباب تو دے

نشے میں ہوش کسے جو گنے حساب کرے

جو تجھ کو دینا ہیں بوسے بلا حساب تو دے

جواب نامہ نہیں گر تو رکھ دو نامۂ یار

جو پوچھیں قبر میں عاشق سے کچھ جواب تو دے

رکھے ہے حوصلہ دریا کب اہل ہمت کا

نہیں یہ اتنا کہ بھر کاسۂ حباب تو دے

کہاں بجھی ہے تہ خاک میری آتش دل

کہو ہوا سے ہلا دامن سحاب تو دے

خنک دلوں کی اگر آہ سرد دوزخ میں

پڑے تو واقعی اک بار آگ داب تو دے

کرے گا قتل وہ اے ذوقؔ تجھ کو سرمے سے

نگہ کی تیغ کو ہونے سیاہ تاب تو دے

پہنچ رہوں گا سر منزل فنا اے ذوقؔ

مثال نقش قدم کرنے پا تراب تو دے

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq