خوب روکا شکایتوں سے مجھے
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
خوب روکا شکایتوں سے مجھے
تو نے مارا عنایتوں سے مجھے
واجب القتل اس نے ٹھہرایا
آیتوں سے روایتوں سے مجھے
کہتے کیا کیا ہیں دیکھ تو اغیار
یار تیری حمایتوں سے مجھے
کیا غضب ہے کہ دوست تو سمجھے
دشمنوں کی رعایتوں سے مجھے
دم گریہ کمی نہ کر اے چشم
شوق کم ہے کفایتوں سے مجھے
کمیٔ گریہ نے جلا مارا
ہوا نقصاں کفایتوں سے مجھے
لے گئی عشق کی ہدایت ذوقؔ
ان کنے سب نہایتوں سے مجھے
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)