محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوا
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوا
لا ساقیا پیالہ کہ توبہ کا قل ہوا
جن کی نظر چڑھا ترا رخسار آتشیں
ان کا چراغ گور نہ تا حشر گل ہوا
بندہ نوازیاں تو یہ دیکھو کہ آدمی
جزو ضعیف محرم اسرار کل ہوا
دریائے غم سے میرے گزرنے کے واسطے
تیغ خمیدہ یار کی لوہے کا پل ہوا
پروانہ بھی تھا گرم تپش پر کھلا نہ راز
بلبل کی تنگ حوصلگی تھی کہ غل ہوا
آئی تہی دروں کی نہ ہرگز سمجھ میں بات
آوازہ گو بلند مثال دہل ہوا
اس بن رہا چمن میں بھی میں ذوقؔ دل خراش
ناخن سے تیز تر مجھے ہر برگ گل ہوا
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)