Prof. Syed Mujahid Sajjad

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے

کون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے

گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشید

ہوس گرمیٔ بازار لیے پھرتی ہے

وہ مرے اختر طالع کی ہے واژوں گردش

کہ فلک کو بھی نگوں سار لیے پھرتی ہے

کر دیا کیا ترے ابرو نے اشارہ قاتل

کہ قضا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی ہے

جا کے اک بار نہ پھرنا تھا جہاں واں مجھ کو

بے قراری ہے کہ سو بار لیے پھرتی ہے

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq