یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے
زندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہے
زال دنیا ہے عجب طرح کی علامۂ دہر
مرد دیں دار کو بھی دہریہ کر دیتی ہے
بڑھتی جاتی ہے جو مشق ستم اس ظالم کی
کچھ محبت مری اصلاح مگر دیتی ہے
فائدہ دے ترے بیمار کو کیا خاک دوا
اب تو اکسیر بھی دیجے تو ضرر دیتی ہے
شمع گھبرا نہ شب غم سے کہ کوئی دم میں
تجھ کو کافور سفیدی سحر دیتی ہے
غنچہ ہنستا ہے ترے آگے جو گستاخی سے
چٹخنا منہ پہ وہیں باد سحر دیتی ہے
شمع بھی کم نہیں کچھ عشق میں پروانے سے
جان دیتا ہے اگر وہ تو یہ سر دیتی ہے
دم بہ دم زخم پہ اک زخم ہے دم لینے کی
مجھ کو فرصت نہیں وہ تیغ نظر دیتی ہے
کہتے سنتے نہیں کچھ ہم تو شب ہجر میں پر
نالۂ دل کا جواب آہ جگر دیتی ہے
تیرہ بختی مری کرتی ہے پریشاں مجھ کو
تہمت اس زلف سیہ فام پہ دھر دیتی ہے
نخل مژگاں سے ہے کیا جانیے کیا چشم ثمر
چشم پانی کی جگہ خون جگر دیتی ہے
دیتی شربت ہے کسے زہر بھری آنکھ تری
عین احسان ہے وہ زہر بھی گر دیتی ہے
کوئی غماز نہیں میری طرف سے اے ذوقؔ
کان اس کے مری فریاد ہی بھر دیتی ہے
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)