Prof. Syed Mujahid Sajjad

دیکھ پھر آج بھی اس نگری میں

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

دیکھ پھر آج بھی اس نگری میں

شام کی کرنیں تیرے ساتھ چلی ہیں

تیرے ساتھ چلی ہیں

دیکھ اب کہیں کہیں ان لمبی لال لووں کی لڑیاں میلی دھوپ میں بجھ کے

رستوں سے پیوست پڑی ہیں

کہیں کہیں یہ زرد سلگتے تیکھے بان دلوں میں چبھ کر ٹوٹ گئے ہیں

آسمان سے لے کر سطح زمیں تک

ہر سو پھیل گئی ہیں لاکھ خراشیں

دکھتی خراشیں گہری الجھی ہوئی لہریلی

پگھلی ہوئی بے جسم سلاخیں پتلی پتلی پیلی پیلی

دیکھ اب ان سیال سلاخوں کی چمکیلی باڑھ یہ جتنے پھول تھے ان کو

توڑ کے لے گئے بے سدھ جھونکے

باقی صرف اک سرد سیاہ الجھاؤ

بجھتی ہوئی اک سانس کے قیدی

دیکھ اب تیرے سامنے ہیں وہ سارے سرد سیاہ زمانے

جن کے بھنور میں تیرے دیپ کی لو اس وقت سے لرزاں ہے

پہلا سورج صدیوں پہلے جب ترے دل میں ڈوبا تھا

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad