Prof. Syed Mujahid Sajjad

رات آئی ہے بہت راتوں کے بعد آئی ہے

مخدوم محی الدین

کلیاتِ مخدوم

Published 14 October 2026

رات آئی ہے بہت راتوں کے بعد آئی ہے

دیر سے دور سے آئی ہے مگر آئی ہے

مرمریں صبح کے ہاتھوں میں چھلکتا ہوا جام آئے گا

رات ٹوٹے گی اجالوں کا پیام آئے گا

آج کی رات نہ جا

زندگی لطف بھی ہے زندگی آزار بھی ہے

ساز و آہنگ بھی زنجیر کی جھنکار بھی ہے

زندگی دید بھی ہے حسرت دیدار بھی ہے

زہر بھی آب حیات لب و رخسار بھی ہے

زندگی خار بھی ہے زندگی دار بھی ہے

آج کی رات نہ جا

آج کی رات بہت راتوں کے بعد آئی ہے

کتنی فرخندہ ہے شب کتنی مبارک ہے سحر

وقف ہے میرے لیے تیری محبت کی نظر

آج کی رات نہ جا

About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)

مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔

Read all poetry by Makhdoom Mohiuddin

More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin