مخدوم محی الدین
Makhdoom Mohiuddin: Urdu poetry
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
38 verses on this site
Nazm
بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں
Nazm
دھنک ٹوٹ کر سیج بنی
Nazm
روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں
Nazm
دل کا سامان اٹھاؤ
Nazm
یہ کس پیکر کی رنگینی سمٹ کر دل میں آتی ہے
Nazm
مجھے ڈر ہے کہ کہیں سرد نہ ہو جائے یہ احساس کی رات
Nazm
کچھ سننے کی خواہش کانوں کو کچھ کہنے کا ارماں آنکھوں میں
Nazm
جز تری آنکھوں کے کن آنکھوں نے
Nazm
کھیلتا تھا جب لڑکپن سے ترا رنگیں شباب
Nazm
وہ روپ رنگ راگ کا پیام لے کے آ گیا
Nazm
مبارک تجھے او زمیں کے مسافر
Nazm
کچھ قوس قزح سے رنگت لی کچھ نور چرایا تاروں سے
Nazm
خواہشیں
Nazm
میں آفتاب پی گیا ہوں
Nazm
قید ہے قید کی میعاد نہیں
Nazm
عرش کی آڑ میں انسان بہت کھیل چکا
Nazm
پیار سے آنکھ بھر آتی ہے کنول کھلتے ہیں
Nazm
رات کے کوئی بارہ بجے ہوں گے
Nazm
پھر اسی شوخ کا خیال آیا
Nazm
نوائے درد مری کہکشاں میں ڈوب گئی
Nazm
نکلے دہان توپ سے بربادیوں کے راگ
Nazm
کوئی دھڑکن
Nazm
محبت کو تم لاکھ پھینک آؤ گہرے کنویں میں
Nazm
یہیں کی تھی محبت کے سبق کی ابتدا میں نے
Nazm
یہ شہر اپنا
Nazm
کروڑوں برس کی پرانی
Nazm
رات کے ہاتھ میں اک کاسۂ دریوزہ گری
Nazm
شب کی تاریکی میں اک اور ستارہ ٹوٹا
Nazm
تم جو آ جاؤ آج دلی میں
Nazm
ایک بوسیدہ حویلی یعنی فرسودہ سماج
Nazm
کہو ہندوستاں کی جے
Nazm
جانے والے سپاہی سے پوچھو
Nazm
رات آئی ہے بہت راتوں کے بعد آئی ہے
Nazm
اے جان نغمہ جہاں سوگوار کب سے ہے
Nazm
رعد ہوں برق ہوں بے چین ہوں پارا ہوں میں
Nazm
اک چنبیلی کے منڈوے تلے
Nazm
موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
Nazm
رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہے