کوئی دھڑکن
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
کوئی دھڑکن
نہ کوئی چاپ
نہ سنچل
نہ کوئی موج
نہ ہلچل
نہ کسی سانس کی گرمی
نہ بدن
ایسے سناٹے میں اک آدھ تو پتا کھڑکے
کوئی پگھلا ہوا موتی
کوئی آنسو
کوئی دل
کچھ بھی نہیں
کتنی سنسان ہے یہ راہ گزر
کوئی رخسار تو چمکے کوئی بجلی تو گرے
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں (Nazm)
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)