قید ہے قید کی میعاد نہیں
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
قید ہے قید کی میعاد نہیں
جور ہے جور کی فریاد نہیں داد نہیں
رات ہے رات کی خاموشی ہے تنہائی ہے
دور محبس کی فصیلوں سے بہت دور کہیں
سینۂ شہر کی گہرائی سے گھنٹوں کی صدا آتی ہے
چونک جاتا ہے دماغ
جھلملا جاتی ہے انفاس کی لو
جاگ اٹھتی ہے مری شمع شبستان خیال
زندگانی کی ایک اک بات کی یاد آتی ہے
شاہراہوں میں گلی کوچوں میں انسانوں کی بھیڑ
ان کے مصروف قدم
ان کے ماتھے پہ تردد کے نقوش
ان کی آنکھوں میں غم دوش اور اندیشۂ فردا کا خیال
سیکڑوں لاکھوں قدم
سیکڑوں لاکھوں قدم
سیکڑوں لاکھوں دھڑکتے ہوئے انسانوں کے دل
جور شاہی سے غمیں جبر سیاست سے نڈھال
جانے کس موڑ پہ یہ دھن سے دھماکا ہو جائیں
سالہا سال کی افسردہ و مجبور جوانی کی امنگ
طوق و زنجیر سے لپٹی ہوئی سو جاتی ہے
کروٹیں لینے میں زنجیر کی جھنکار کا شور
خواب میں زیست کی شورش کا پتہ دیتا ہے
مجھے غم ہے کہ مرا گنج گراں مایۂ عمر
نذر زنداں ہوا
نذر آزادیٔ زندان وطن کیوں نہ ہوا
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں (Nazm)
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)