جانے والے سپاہی سے پوچھو
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
جانے والے سپاہی سے پوچھو
وہ کہاں جا رہا ہے
کون دکھیا ہے جو گا رہی ہے
بھوکے بچوں کو بہلا رہی ہے
لاش جلنے کی بو آ رہی ہے
زندگی ہے کہ چلا رہی ہے
جانے والے سپاہی سے پوچھو
وہ کہاں جا رہا ہے
کتنے سہمے ہوئے ہیں نظارے
کیسے ڈر ڈر کے چلتے ہیں تارے
کیا جوانی کا خوں ہو رہا ہے
سرخ ہیں آنچلوں کے کنارے
جانے والے سپاہی سے پوچھو
وہ کہاں جا رہا ہے
گر رہا ہے سپاہی کا ڈیرا
ہو رہا ہے مری جاں سویرا
اور وطن چھوڑ کر جانے والے
کھل گیا انقلابی پھریرا
جانے والے سپاہی سے پوچھو
وہ کہاں جا رہا ہے
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں (Nazm)
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)