Prof. Syed Mujahid Sajjad

اک چنبیلی کے منڈوے تلے

مخدوم محی الدین

کلیاتِ مخدوم

Published 14 October 2026

اک چنبیلی کے منڈوے تلے

مے کدے سے ذرا دور اس موڑ پر

دو بدن

پیار کی آگ میں جل گئے

پیار حرف وفا پیار ان کا خدا

پیار ان کی چتا

دو بدن

اوس میں بھیگتے چاندنی میں نہاتے ہوئے

جیسے دو تازہ رو تازہ دم پھول پچھلے پہر

ٹھنڈی ٹھنڈی سبک رو چمن کی ہوا

صرف ماتم ہوئی

کالی کالی لٹوں سے لپٹ گرم رخسار پر

ایک پل کے لیے رک گئی

ہم نے دیکھا انہیں

دن میں اور رات میں

نور و ظلمات میں

مسجدوں کے مناروں نے دیکھا انہیں

مندروں کے کواڑوں نے دیکھا انہیں

مے کدوں کی دراڑوں نے دیکھا انہیں

از ازل تا ابد

یہ بتا چارہ گر

تیری زنبیل میں

نسخۂ کیمیائے محبت بھی ہے

کچھ علاج و مداوائے الفت بھی ہے

اک چنبیلی کے منڈوے تلے

مے کدے سے ذرا دور اس موڑ پر

دو بدن

About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)

مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔

Read all poetry by Makhdoom Mohiuddin

More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin