پھر اسی شوخ کا خیال آیا
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
پھر اسی شوخ کا خیال آیا
پھر نظر میں وہ خوش جمال آیا
پھر تڑپنے لگا دل مضطر
پھر برسنے لگا ہے دیدۂ تر
یاد آئیں وہ چاندنی راتیں
وہ ہنسی کھیل دل لگی باتیں
شب تاریک ہے خموشی ہے
کل جہاں محو عیش کوشی ہے
لطف سجدوں میں آ رہا ہے مجھے
چھپ کے کوئی بلا رہا ہے مجھے
چوڑیاں بج رہی ہیں ہاتھوں کی
آئی آواز اس کی باتوں کی
اڑ رہا ہے غبار نور بدن
پھیلتی جا رہی ہے بوئے دہن
موج تسنیم و کیف خلد بریں
جگمگاتا بدن چمکتی جبیں
اپنے آنچل میں منہ چھپائے ہوئے
آ رہا ہے قدم بڑھائے ہوئے
نغمے پازیب کے سناتے ہوئے
بخت خفتہ مرے جگاتے ہوئے
عشوہ و ناز کا فسوں لے کر
ساتھ اک لشکر جنوں لے کر
دور سے مسکراتا آتا ہے
بجلیاں سی گراتا آتا ہے
وہ کہ رنگیں کرن تبسم کی
اک مسلسل لڑی ترنم کی
پردۂ تن میں راگ پوشیدہ
راگ وہ جس میں آگ پوشیدہ
بانسری سی بجائے جاتا ہے
آگ تن میں لگائے جاتا ہے
ایک دنیائے رنگ و بو بن کر
خوں شدہ دل کی آرزو بن کر
نئی دلہن کی تھرتھری بن کر
اس کے ہونٹوں کی کپکپی بن کر
میرے دل میں سما گیا کوئی
میری ہستی پہ چھا گیا کوئی
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں (Nazm)
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)