نوائے درد مری کہکشاں میں ڈوب گئی
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
نوائے درد مری کہکشاں میں ڈوب گئی
وہ چاند تاروں کی سیل رواں میں ڈوب گئی
سمن بران فلک نے شرر کو دیکھ لیا
زمین والوں کے دل کو نظر کو دیکھ لیا
وہ میری آہ کا شعلہ تھا کوئی تارہ نہ تھا
وہ خاکداں کا مسافر تھا ماہ پارہ نہ تھا
دلوں میں بیٹھ گیا تیر آرزو بن کر
فلک پہ پھیل گیا عشق کا لہو بن کر
یہ ساکنان فلک درد و غم کو کیا جانیں
یہ خاکیوں کے رہ بیش و کم کو کیا جانیں
وہ غم کو پی تو گئے آنسوؤں کو پی نہ سکے
زمیں کے زہر کو پی کر وہ اور جی نہ سکے
فلک سے گرنے لگے ٹوٹ ٹوٹ کر تارے
زمیں پہ ڈھیر ہوئے تیر آہ کے مارے
یہ آگ اور بھی اوپر نکل گئی ہوتی
حریم عرش کو چھو کر نکل گئی ہوتی
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں (Nazm)
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)