Prof. Syed Mujahid Sajjad

اے جان نغمہ جہاں سوگوار کب سے ہے

مخدوم محی الدین

کلیاتِ مخدوم

Published 14 October 2026

اے جان نغمہ جہاں سوگوار کب سے ہے

ترے لیے یہ زمیں بے قرار کب سے ہے

ہجوم شوق سر رہ گزار کب سے ہے

گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے

نہ تابناکیٔ رخ ہے نہ کاکلوں کا ہجوم

ہے ذرہ ذرہ پریشاں کلی کلی مغموم

ہے کل جہاں متعفن ہوائیں سب مسموم

گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے

رخ حیات پہ کاکل کی برہمی ہی نہیں

نگار دہر میں انداز مریمی ہی نہیں

مسیح و خضر کی کہنے کو کچھ کمی ہی نہیں

گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے

حیات بخش ترانے اسیر ہیں کب سے

گلوئے زہرہ میں پیوست تیر ہیں کب سے ہے

قفس میں بند ترے ہم صفیر ہیں کب سے

گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے

حرم کے دوش پہ عقبیٰ کا دام ہے اب تک

سروں میں دین کا سودائے خام ہے اب تک

توہمات کا آدم غلام ہے اب تک

گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے

ابھی دماغ پہ قحبائے سیم و زر ہے سوار

ابھی رکی ہی نہیں تیشہ زن کے خون کی دھار

شمیم عدل سے مہکیں یہ کوچہ و بازار

گزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے

About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)

مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔

Read all poetry by Makhdoom Mohiuddin

More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin