Prof. Syed Mujahid Sajjad

شب کی تاریکی میں اک اور ستارہ ٹوٹا

مخدوم محی الدین

کلیاتِ مخدوم

Published 14 October 2026

شب کی تاریکی میں اک اور ستارہ ٹوٹا

طوق توڑے گئے ٹوٹی زنجیر

جگمگانے لگا ترشے ہوے ہیرے کی طرح

آدمیت کا ضمیر

پھر اندھیرے میں کسی ہاتھ میں خنجر چمکا

شب کے سناٹے میں پھر خون کے دریا چمکے

صبح دم جب مرے دروازے سے گزری ہے صبا

اپنے چہرے پہ ملے خون سحر گزری ہے

خیر ہو مجلس اقوام کی سلطانی کی

خیر ہو حق کی صداقت کی جہاں بانی کی

اور اونچی ہوئی صحرا میں امیدوں کی صلیب

اور اک قطرۂ خوں چشم سحر سے ٹپکا

جب تلک دہر میں قاتل کا نشاں باقی ہے

تم مٹاتے ہی چلے جاؤ نشاں قاتل کے

روز ہو جشن شہیدان وفا چپ نہ رہو

بار بار آتی ہے مقتل سے صدا چپ نہ رہو

چپ نہ رہو!

About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)

مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔

Read all poetry by Makhdoom Mohiuddin

More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin