شب کی تاریکی میں اک اور ستارہ ٹوٹا
کلیاتِ مخدوم
Published 14 October 2026
شب کی تاریکی میں اک اور ستارہ ٹوٹا
طوق توڑے گئے ٹوٹی زنجیر
جگمگانے لگا ترشے ہوے ہیرے کی طرح
آدمیت کا ضمیر
پھر اندھیرے میں کسی ہاتھ میں خنجر چمکا
شب کے سناٹے میں پھر خون کے دریا چمکے
صبح دم جب مرے دروازے سے گزری ہے صبا
اپنے چہرے پہ ملے خون سحر گزری ہے
خیر ہو مجلس اقوام کی سلطانی کی
خیر ہو حق کی صداقت کی جہاں بانی کی
اور اونچی ہوئی صحرا میں امیدوں کی صلیب
اور اک قطرۂ خوں چشم سحر سے ٹپکا
جب تلک دہر میں قاتل کا نشاں باقی ہے
تم مٹاتے ہی چلے جاؤ نشاں قاتل کے
روز ہو جشن شہیدان وفا چپ نہ رہو
بار بار آتی ہے مقتل سے صدا چپ نہ رہو
چپ نہ رہو!
About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)
مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔
More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin
- بے دار ہوئیں مہر جوانی کی شعاعیں (Nazm)
- دھنک ٹوٹ کر سیج بنی (Nazm)
- روز روشن جا چکا، ہیں شام کی تیاریاں (Nazm)
- دل کا سامان اٹھاؤ (Nazm)