Prof. Syed Mujahid Sajjad

یہیں کی تھی محبت کے سبق کی ابتدا میں نے

مخدوم محی الدین

کلیاتِ مخدوم

Published 14 October 2026

یہیں کی تھی محبت کے سبق کی ابتدا میں نے

یہیں کی جرأت اظہار حرف مدعا میں نے

یہیں دیکھے تھے عشوۂ ناز و انداز حیا میں نے

یہیں پہلے سنی تھی دل دھڑکنے کی صدا میں نے

یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی

دلوں میں اژدہام آرزو لب بند رہتے تھے

نظر سے گفتگو ہوتی تھی دم الفت کا بھرتے تھے

نہ ماتھے پر شکن ہوتی نہ جب تیور بدلتے تھے

خدا بھی مسکرا دیتا تھا جب ہم پیار کرتے تھے

یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی

وہ کیا آتا کہ گویا دور میں جام شراب آتا

وہ کیا آتا رنگیلی راگنی رنگیں رباب آتا

مجھے رنگینیوں میں رنگنے وہ رنگیں سحاب آتا

لبوں کی مے پلانے جھومتا مست شباب آتا

یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی

حیا کے بوجھ سے جب ہر قدم پر لغزشیں ہوتیں

فضا میں منتشر رنگیں بدن کی لرزشیں ہوتیں

رباب دل کے تاروں میں مسلسل جنبشیں ہوتیں

خفائے راز کی پر لطف باہم کوششیں ہوتیں

یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی

بہے جاتے تھے بیٹھے عشق کے زریں سفینے میں

تمناؤں کا طوفاں کروٹیں لیتا تھا سینے میں

جو چھو لیتا میں اس کو وہ نہا جاتا پسینے میں

مئے دوآتشہ کے سے مزے آتے تھے جینے میں

یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی

بلائے فکر فردا ہم سے کوسوں دور ہوتی تھی

سرور سرمدی سے زندگی معمور ہوتی تھی

ہماری خلوت معصوم رشک طور ہوتی تھی

ملک جھولا جھلاتے تھے غزل خواں حور ہوتی تھی

یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی

نہ اب وہ کھیت باقی ہیں نہ وہ آب رواں باقی

مگر اس عیش رفتہ کا ہے اک دھندلا نشاں باقی

About Makhdoom Mohiuddin (مخدوم محی الدین)

مخدوم محی الدین (1908 – 1969) اردو کے ترقی پسند شاعر اور سیاست دان تھے، جو حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی نظموں میں عوامی درد اور انقلابی شعور نمایاں ہے۔

Read all poetry by Makhdoom Mohiuddin

More Urdu poetry by Makhdoom Mohiuddin