Prof. Syed Mujahid Sajjad

قدم قدم پر جنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

قدم قدم پر جنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ

یہ دیکھتے کیا ہو کام میرا نہیں تمہارا یہ کام ہے آج اور کل کا

تم آج میں محو ہو کے شاید یہ سوچتے ہو

نہ بیتا کل اور نہ آنے والا تمہارا کل ہے

مگر یوں ہی سوچ میں جو ڈوبے تو کچھ نہ ہوگا

جنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ

چلو جنازوں کو اب اٹھاؤ

یہ بہتے آنسو بہیں گے کب تک اٹھو اور اب ان کو پونچھ ڈالو

یہ راستا کب ہے اک لحد ہے

لحد کے اندر تو اک جنازہ ہی بار پائے گا یہ بھی سوچو

تو کیا مشیت کے فیصلے سے ہٹے ہٹے رینگتے رہوگے

جنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ

لحد کھلی ہے

لحد ہے ایسے کہ جیسے بھوکے کا لالچی کا منہ کھلا ہوا ہو

مگر کوئی تازہ اور تازہ نہ ہو میسر تو باسی لقمہ بھی اس کے

اندر نہ جانے پائے

کھلا دہن یوں کھلا رہے جیسے اک خلا ہو

اٹھاؤ جلدی اٹھاؤ آنکھوں کے سامنے کچھ جنازے رکھے

ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ

لحد میں ان کو ابد کی اک گہری نیند میں غرق کر کے آؤ

اگر یہ مردے لحد کے اندر گئے تو شاید

تمہاری مردہ حیات بھی آج جاگ اٹھے

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji