میراجی
Meeraji: Urdu poetry
میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔
35 verses on this site
Nazm
کوہ سے زریں اذیت کے گزر جانے کے بعد
Nazm
رسیلے جرائم کی خوشبو
Nazm
سمجھ لو کہ جو شے نظر آئے اور یہ کہے میں کہاں ہوں
Nazm
بہو کہے یہ بڑھیا میری جان کی لاگو بن کے رہے گی
Nazm
غسل خانے میں وہ کہتی ہیں ہمیں چینی کی اینٹیں ہی پسند آتی ہیں
Nazm
اوس کی بوندوں میں نمکینی نہیں
Nazm
بے شمار آنکھوں کو چہرے میں لگائے ہوئے استادہ ہے تعمیر کا اک نقش عجیب
Nazm
ایک اکہرا دوسرا دہرا تیسرا ہے سو تہرا ہے
Nazm
لرز لرز کر دمک رہے ہیں
Nazm
یہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوں
Nazm
جس شخص کے ملبوس کی قسمت میں لکھی ہے
Nazm
میں یہ چاہتی ہوں کہ دنیا کی آنکھیں مجھے دیکھتی جائیں یوں دیکھتی جائیں جیسے
Nazm
قدم قدم پر جنازے رکھے ہوئے ہیں ان کو اٹھاؤ جاؤ
Nazm
رات کے عکس تخیل سے ملاقات ہو جس کا مقصود
Nazm
میں کہتا ہوں تم سے اگر شام کو بھول کر بھی کسی نے کبھی کوئی دھندلا ستارہ نہ دیکھا
Nazm
بس دیکھا اور پھر بھول گئے
Nazm
خدا نے الاؤ جلایا ہوا ہے
Nazm
تمہیں معلوم ہے تیمور کی فوجیں جس وقت
Nazm
میں جنسی کھیل کو صرف اک تن آسانی سمجھتا ہوں
Nazm
ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا
Nazm
رات اندھیری بن ہے سونا کوئی نہیں ہے ساتھ
Nazm
اندھیرے کمرے میں بیٹھا ہوں
Nazm
ایک ہی پل کے لیے بیٹھ کے پھر اٹھ بیٹھی
Nazm
تمہی کو آج مرے روبرو بھی ہونا تھا
Nazm
ایک آیا گیا دوسرا آئے گا دیر سے دیکھتا ہوں یوں ہی رات اس کی گزر جائے گی
Nazm
زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے
Nazm
زندگی محبوب ہے پھر بھی دعائیں موت کی
Nazm
رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیں
Nazm
یہ جی چاہتا ہے کہ تم ایک ننھی سی لڑکی ہو اور ہم تمہیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لیں
Nazm
پھیلی دھرتی کے سینے پہ جنگل بھی ہیں لہلہاتے ہوئے
Nazm
فضول ہے
Nazm
سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دو
Nazm
میں سوچتا ہوں اک نظم لکھوں
Nazm
سب رات مری سپنوں میں گزر جاتی ہے اور میں سوتا ہوں
Nazm
یہ سرگوشیاں کہہ رہی ہیں اب آؤ کہ برسوں سے تم کو بلاتے بلاتے مرے