Prof. Syed Mujahid Sajjad

میں سوچتا ہوں اک نظم لکھوں

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

میں سوچتا ہوں اک نظم لکھوں

لیکن اس میں کیا بات کہوں

اک بات میں بھی سو باتیں ہیں

کہیں جیتیں ہیں کہیں ماتیں ہیں

دل کہتا ہے میں سنتا ہوں

من مانے پھول یوں چنتا ہوں

جب مات ہو مجھ کو چپ نہ رہوں

اور جیت جو ہو درانہ کہوں

پل کے پل میں اک نظم لکھوں

لیکن اس میں کیا بات کہوں

جب یوں الجھن بڑھ جاتی ہے

تب دھیان کی دیوی آتی ہے

اکثر تو وہ چپ ہی رہتی ہے

کہتی ہے تو اتنا کہتی ہے

کیوں سوچتے ہو اک نظم لکھو

کیوں اپنے دل کی بات کہو

بہتر تو یہی ہے چپ ہی رہو

لیکن پھر سوچ یہ آتی ہے

جب ندی بہتی جاتی ہے

اور اپنی اننت کہانی میں

یوں بے دھیانی میں روانی میں

مانا ہر موڑ پہ مڑتی ہے

پر جی کی کہہ کے گزرتی ہے

سر پر آئی سہہ جاتی ہے

اور منہ آئی کہہ جاتی ہے

دھرتی کے سینے پہ چڑھتی ہے

اور آگے ہی آگے بڑھتی ہے

یوں میں بھی دل کی بات کہوں

جی میں آئے تو نظم لکھوں

چاہے اک بات میں سو باتیں

جیتیں لے آئیں یا ماتیں

چاہے کوئی بات بنے نہ بنے

چاہے سکھ ہوں یا دکھ اپنے

چاہے کوئی مجھ سے آ کے کہے

کیوں بول اٹھے کیوں چپ نہ رہے

چاہے میں کہہ کر چپ ہی رہوں

میں سوچتا ہوں اک نظم لکھوں

لیکن اس میں کیا بات کہوں

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji