Prof. Syed Mujahid Sajjad

زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے

فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے

یہ میں کہہ رہا ہوں

میں کوئی برائی نہیں ہوں زمانہ نہیں ہوں تسلسل کا جھولا نہیں ہوں

مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے کیا زمانے میں ہے اور پھر میں تو یہ بھی کہوں گا

کہ ج�� شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے

برائی بھلائی زمانہ تسلسل یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیں

مجھے تو کسی بھی گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے

میں ہوں ایک اور میں اکیلا ہوں ایک اجنبی ہوں

یہ بستی یہ جنگل یہ بہتے ہوئے رستے اور دریا

یہ پربت اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارت

یہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگ مسلسل کی صورت مجاور

یہ ہنستے ہوئے ننھے بچے یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہوا ایک اندھا مسافر

ہوائیں نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل

یہ کیا ہیں

یہی تو زمانہ ہے یہ ایک تسلسل کا جھولا رواں ہے

یہ میں کہہ رہا ہوں

یہ بستی یہ جنگل یہ رستے یہ دریا یہ پربت عمارت مجاور مسافر

ہوائیں نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل

یہ سب کچھ یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے

زمانہ ہوں میں میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہے

مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے

یہ کیسے کہوں میں

کہ مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji