Prof. Syed Mujahid Sajjad

یہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوں

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

یہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوں

یہ لہریں ہیں بہی جاتی ہیں اور مجھ کو بہاتی ہیں

یہ موج بادہ ہیں ساغر کی خوابیدہ فضا دل میں

اچانک جاگ اٹھتی ہے

حقیقت کے جہاں سے کوئی اس دنیا میں در آئے

تو اس کے ہونٹ متبسم ہوں شاید قہقہہ اٹھ کر

مرے دل کو جکڑ لے اپنے ہاتھوں سے

مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ لہریں ابھی تک ساحلی منظر سے ناواقف ہیں یوں ہی اک بہانا کر رہی ہیں اک بہانہ کس کو کہتے ہیں

بہانے ہی بہانے ہیں

بڑھا کر رکھ دیا لہروں پہ میں نے ہاتھ مرا ہاتھ اک کشتی کی مانند ایک موج تند

کی افتاد کے جلوے کو مرے سامنے لا کر ہوا ہے گم

یہ سب موج تخیل کی روانی تھی

مگر میں سوچتا ہوں بات جو کہنے کی تھی میں نے نہ کیوں پہلے ہی کہہ دی وقت کا

بے فائدہ مصرف

ہر اک پوشیدہ منظر کو

اگل ڈالے گا اک لمحہ وہ آئے گا

کہ جب اس بات کے سننے پہ سننے والے سوچیں گے

بہانہ کیا تھا سلوٹ کیا تھی موج بادہ بھی کیا تھی

مگر شب کی اندھیری خلوت گمنام کے پردے میں کھو کر ان کو یہ معلوم ہو جائے گا اک پل میں

اور اک لذت کے کیف مختصر میں کھو کے وہ بے ساختہ یہ بات کہہ اٹھیں گے کیا

مجھ کو اجازت ہے

یہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوں یہ جھجک کیسی

یہ لہریں ہیں انہیں نسبت ہے کالی رات کے غم ناک دریا سے

جو بہتا ہی چلا جاتا ہے رکتا ہی نہیں پل کو

جسے کچھ بھی غرض اس سے نہیں میں ہاتھ رکھوں یا جھجک اس ہاتھ کو میرے

کلیجے سے لگا دے اور میں سو جاؤں ان لہروں کے بستر میں

کلیجے سے لگا دے اور میں سو جاؤں ان لہروں کے بستر میں

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji