Prof. Syed Mujahid Sajjad

ایک اکہرا دوسرا دہرا تیسرا ہے سو تہرا ہے

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

ایک اکہرا دوسرا دہرا تیسرا ہے سو تہرا ہے

ایک اکہرے پر پل پل کو دھیان کا خونیں پہرہ ہے

دوسرے دوہرے کے رستے میں تیسرا کھیل کا مہرہ ہے

تیسرا تہرہ جو ہے اس کا سب سے اجاگر چہرہ ہے

گویا اکہرا پہرا دہرہ مہرا، تہرا چہرہ ہے

ایک اکہرا کاغذ دہرا تہرا ہو کر ناؤ بنی

ناؤ سے پل بھر بچے بہلے کھیل کھیل میں گھاؤ بنی

گھاؤ بنی تو دل میں دھیان یہ آیا کہہ دیں آؤ بنی

بن بن کر جو کھیل بگڑ جاتے ہیں ان کی بات نہیں

کوئی جنازہ بھی یہ نہیں ہے اور کوئی بارات نہیں

یہ اک ایسا دن ہے جس کے آگے پیچھے رات نہیں

تہرے کی ہر تہہ میں یوں تو ایک نیا ہی چہرا ہے

لیکن ہر ایک چہرا اس بن کھیلے کھیل کا مہرا ہے

جس کا رنگ اکہرا ہے

آگے بات بڑھائیں کیسے بات بنے تو بات بڑھے

اب تک رنگ اکہرا تھا گر کوئی بڑھا تو ہاتھ بڑھے

ہونی کی تو ریت یہی ہے چھوٹے دن کی رات بڑھے

اب تو جو بھی بڑھنا چاہے اپنے ساتھ ہی ساتھ بڑھے

آگے پیچھے دوڑ دوڑ کر اک آگے اک پیچھے ہے

پیچھے والا کیسے بڑھے جب آگے والا بھی دوڑے

دونوں چوٹ برابر کی ہیں یہ دونوں سے کون کہے

ہار اور جیت اسی میں ہے اب کون رکے اور کون بڑھے

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji