رات اندھیری بن ہے سونا کوئی نہیں ہے ساتھ
کلیاتِ میراجی
Published 14 October 2026
رات اندھیری بن ہے سونا کوئی نہیں ہے ساتھ
پون جھکولے پیڑ ہلائیں تھر تھر کانپیں پات
دل میں ڈر کا تیر چبھا ہے سینے پر ہے ہاتھ
رہ رہ کر سوچوں یوں کیسے پوری ہوگی رات
برکھا رت ہے اور جوانی لہروں کا طوفان
پیتم ہے نادان مرا دل رسموں سے انجان
کوئی نہیں جو بات سجھائے کیسے ہوں سامان
بھگون مجھ کو راہ دکھا دے مجھ کو دے دے گیان
چپو ٹوٹے ناؤ پرانی دور ہے کھیون ہار
بیری ہیں ندی کی موجیں اور پیتم اس پار
سن لے سن کے دکھ میں پکارے اک پریمی بچارا
کیسے جاؤں کیسے پہنچوں کیسے جتاؤں پیار
کیسے اپنے دل سے مٹاؤں برہ اگن کا روگ
کیسے سجھاؤں پریم پہیلی کیسے کروں سنجوگ
بات کی گھڑیاں بیت نہ جایں دور ہے اس کا دیس
دور دیس ہے پیتم کا اور میں بدلے ہوں بھیس
About Meeraji (میراجی)
میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔