Prof. Syed Mujahid Sajjad

رات کے عکس تخیل سے ملاقات ہو جس کا مقصود

میراجی

کلیاتِ میراجی

Published 14 October 2026

رات کے عکس تخیل سے ملاقات ہو جس کا مقصود

کبھی دروازے سے آتا ہے کبھی کھڑکی سے

اور ہر بار نئے بھیس میں در آتا ہے

اس کو اک شخص سمجھنا تو مناسب ہی نہیں

وہ تصور میں مرے عکس ہے ہر شخص کا ہر انساں کا

کبھی بھر لیتا ہے اک بھولی سی محبوبۂ نادان کا بہروپ کبھی

ایک چالاک جہاں دیدہ و بے باک ستمگر بن کر

دھوکا دینے کے لیے آتا ہے بہکاتا ہے

اور جب وقت گزر جائے تو چھپ جاتا ہے

مری آنکھوں میں مگر چھایا ہے بادل بن کر

ایک دیوار کا روزن اسی روزن سے نکل کر کرنیں

مری آنکھوں سے لپٹتی ہیں مچل اٹھتی ہیں

آرزوئیں دل غم دیدہ کے آسودہ نہاں خانے سے

اور میں سوچتا ہوں نور کے اس پردے میں

کون بے باک ہے اور بھولی سی محبوبہ کون

سوچ کو روک ہے دیوار کی وہ کیسے چلے

کیسے جا پہنچے کسی خلوت محجوب کے مخمور صنم خانے میں

وہ صنم خانہ جہاں بیٹھے ہیں دو بت خاموش

اور نگاہوں سے ہر اک بات کہے جاتے ہیں

ذہن کو ان کے دھندلکے نے بنایا ہے اک ایسا عکاس

جو فقط اپنے ہی من مانے مناظر کو گرفتار کرے

میں کھڑا دیکھتا ہوں سوچتا ہوں جب دونوں

چھوڑ کر دل کے صنم خانے کو گھر جائیں گے

صحن میں تلخ حقیقت کو کھڑا پائیں گے

ایک سوچے گا مری جیب یہ دنیا یہ سماج

ایک دیکھے گا وہاں اور ہی تیاری ہے

مجھ کو الجھن ہے یہ کیوں میں تو نہیں ہوں موجود

رات کی خلوت محجوب کے مخمور صنم خانے میں

مری آنکھوں کو نظر آتا ہے روزن کا دھواں

اور دل کہتا ہے یہ دود دل سوختہ ہے

ایک گھنگھور سکوں ایک کڑی تنہائی

میرا اندوختہ ہے

مجھ کو کچھ فکر نہیں آج یہ دنیا مٹ جائے

مجھ کو کچھ فکر نہیں آج یہ بیکار سماج

اپنی پابندی سے دم گھٹ کے فسانہ بن جائے

مری آنکھوں میں تو مرکوز ہے روزن کا سماں

اپنی ہستی کو تباہی سے بچانے کے لیے

میں اسی روزن بے رنگ میں گھس جاؤں گا

لیکن ایسے تو وہی بت نہ کہیں بن جاؤں

جو نگاہوں سے ہر اک بات کہے جاتا ہے

چھوڑ کر جس کو صنم خانے کی محجوب فضا

گھر کے بیباک المناک سیہ خانے میں

آرزوؤں پہ ستم دیکھنا ہے گھلنا ہے

میں تو روزن میں نہیں جاؤں گا دنیا مٹ جائے

اور دم گھٹ کے فسانہ بن جائے

سنگ دل خون سکھاتی ہوئی بیکار سماج

میں تو اک دھیان کی کروٹ لے کر

عشق کے طائر آوارہ کا بہروپ بھروں گا پل میں

اور چلا جاؤں گا اس جنگل میں

جس میں تو چھوڑ کے اک قلب فسردہ کو اکیلے چل دی

راستہ مجھ کو نظر آئے نہ آئے پھر کیا

ان گنت پیڑوں کے میناروں کو

میں تو چھوتا ہی چلا جاؤں گا

اور پھر ختم نہ ہوگی یہ تلاش

جستجو روزن دیوار کی مرہون نہیں ہو سکتی

میں ہوں آزاد مجھے فکر نہیں ہے کوئی

ایک گھنگھور سکوں ایک کڑی تنہائی

مرا اندوختہ ہے

About Meeraji (میراجی)

میراجی (1912 – 1949) اردو کے جدید شاعر تھے جن کا اصل نام محمد ثناء اللہ ڈار تھا۔ وہ لاہور سے تعلق رکھتے تھے اور آزاد نظم اور علامتی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

Read all poetry by Meeraji

More Urdu poetry by Meeraji